سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 91 of 315

سیرت طیبہ — Page 91

۹۱ د لی جوش و خروش کے ساتھ فرماتے ہیں:۔إِنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ كَذُيَّا قَدْ نَوَرُوا وَجْهَ الوَرَى بِضِيَاء تَرَكُوا أَقَارِبَهُمْ وَحُبَّ عِيَالِهِمُ جَاءُوا رَسُولَ اللَّهِ كَالْفُقَرَاءِ ذُبِحُوا وَمَا خَافُوا الْوَرَى مِنْ صِدْقِهِم بَلْ أَثَرُوا الرَّحْمَانَ عِنْدَ بَلاء تحت السُّيُوفِ تَشَهَدُوا لِخْلُوصِهِم شَهِدُوْا بِصِدْقِ الْقَلْبِ فِي الْأَمْلَاءِ الصَّالِحُونَ الْخَاشِعُونَ لِرَبِّهِمُ الْبَائِتُونَ بِذِكْرِهِ وَ بُكَا قَوْمُ كِرَام لَا نُفَرِّقُ بَيْنَهُمْ كَانُوا لِخَيْرِ الرُّسُلِ كَالْأَعْضَاءِ سر الخلافہ روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۹۷) و یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سورج کی طرح روشن تھے۔انہوں نے ساری دنیا کو اپنے نور سے منور کر دیا۔انہوں نے صداقت کی خاطر اپنے رشتہ داروں کو اور اپنے اہل وعیال کی محبت تک کو خیر باد کہہ دیا۔اور رسول اللہ کی آواز پر غریب درویشوں کی طرح بے گھر اور بے در ہو کر آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔وہ خدا کے رستہ میں برضاء و رغبت ذبح کئے