سیرت طیبہ — Page 59
۵۹ خیال رکھتے اور ان معاملات میں اپنے اہل خانہ کے مشورہ کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔مفتی صاحب مولوی صاحب کا اشارہ سمجھ گئے اور فورا جا کر بیوی کو منا لیا۔اس طرح گھر کی ایک وقتی رنجش جنت ارضی والے سکون اور راحت میں بدل گئی۔(سیرۃ المہدی جلد احصہ دوم صفحه ۳۹۱ روایت ۴۳۲) (۱۲) انسان کے اہل خانہ میں اس کی اولا د بھی شامل ہے اور اس میدان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسوہ بہت بلند تھا۔آپ اپنے بچوں کے ساتھ بڑی شفقت اور بڑی محبت کا سلوک فرماتے تھے مگر لازما دوسری محبتوں کی طرح یہ محبت بھی محبت الہی کے تابع تھی چنانچہ جب ہمارا سب سے چھوٹا بھائی مبارک احمد بیار ہوا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت مسیح موعود کو بڑی کثرت سے قرب وفات کے الہامات ہو رہے تھے تو آپ نے انتہائی توجہ اور جاں سوزی کے ساتھ اس کی تیمار داری فرمائی اور گویا تیمارداری میں دن رات ایک کر دیا۔مگر جب وہ قضاء الہی سے فوت ہو گیا تو آپ اس کی وفات پر یہ شعر فرما کر کامل صبر کا نمونہ دکھاتے ہوئے پورے شرح صدر کے ساتھ راضی برضاء الہی ہو گئے اور خدا کی یاد میں مرنے والے بچے کو اس طرح بھول گئے کہ گویا وہ کبھی تھا ہی نہیں۔فرماتے ہیں:۔برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر