سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 315

سیرت طیبہ — Page 50

السلام کے ایک نہایت مخلص صحابی تھے بیان کرتے تھے کہ اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا کہ اگر ایسا شخص شراب میں بے ہوش پڑا ہو تو ہم اسے اٹھا کر لے آئیں گے اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کریں گے اور جب وہ ہوش میں آنے لگے گا تو اس کے پاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے تا کہ وہ ہمیں دیکھ کر شرمندہ (سیرۃ المہدی جلد ا حصہ دوم صفحه ۳۸۱) نہ ہو۔66 اس سے یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ شرابیوں اور فاسقوں فاجروں کو اپنا دوست بنانا ہیے بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا کوئی دوست ہو اور وہ بعد میں کسی کمزوری میں مبتلا ہو جائے تو اس وجہ سے اس کا ساتھ نہیں چھوڑ دینا چاہیے بلکہ وفاداری کے طریق پر اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔احباب جماعت غور کریں کہ کیا وہ ان اخلاق پر قائم ہیں؟ اور یا درکھو کہ احمدیت کی اخوت کا عہد دوستی کے عہد سے بھی زیادہ مقدس ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب فرمایا ہے:۔انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا (بخاری کتاب المظالم و الغصب باب أعن اخاک ظالما او مظلوما) یعنی اپنے ہر دینی بھائی کی مدد تمہارا فرض ہے خواہ وہ ظالم ہے یا کہ مظلوم ہے۔“ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مظلوم کی مدد تو ہم سمجھتے ہیں مگر ظالم کی مددکس طرح کی جائے ؟ آپ نے فرمایا ظالم کی مدد سے ظلم سے روکنے کی صورت میں کرو مگر بہر حال اخوت کے عہد کو کسی صورت میں ٹوٹنے نہ دو۔