سیرت طیبہ — Page 40
ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا کے فرشتے آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان پر لئے آتے ہیں۔اور ایک نے ان فرشتوں میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمدؐ کی طرف بھیجی تھیں۔صلی اللہ علیہ وسلم (براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۸) الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا عشق تھا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔آپ کی جان اس عشق میں بالکل گداز تھی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا اور اپنے حواس ظاہری و باطنی سے محسوس کیا کہ آپ کا ذرہ ذرہ محمد اور خدائے محمد اور دین محمد پر قربان تھا۔آپ اپنی ایک نظم میں بڑے دردناک انداز میں فرماتے ہیں کہ:۔دے چکے دل اب تن خا کی رہا تم ہمیں دیتے ہو کا فر کا خطاب ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا کیوں نہیں لو گو تمہیں خوف عقاب (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۱۴) بس اس کے سوا میں اس جگہ عشق رسول کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ ایک وسیع سمندر میں سے انسان صرف چند چلو ہی بھر سکتا ہے۔اس لئے اس عنوان کے تحت اب میرے لئے صرف یہی دعا باقی ہے کہ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى