سیرت طیبہ — Page 39
۳۹ ایک اور جگہ اپنی ایک نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں متوالے ہو کر فرماتے ہیں:۔وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نورسارا نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۵۶) ان اشعار میں حضرت مسیح موعود نے جس رنگ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار و فضائل کی وسعت اور ان کے افاضہ اور اس کے مقابل پرا اپنی عاجزی اور انکساری اور آپ کے انوار سے اپنے استفاضہ کا ذکر فرمایا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔دنیا کی تمام برکتوں اور تمام نوروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کی طرف منسوب کر کے اپنے آپ کو ان انوار کے ساتھ اس طرح پیوست کیا ہے کہ جس طرح ایک بڑے طاقتور پاور سٹیشن کے ساتھ بجلی کی تاریں مل کر دنیا کو منور کیا کرتی ہیں۔(۱۵) اسی طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات طیبات کا ذکر کرتے ہوئے دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ :۔