سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 315

سیرت طیبہ — Page 30

(^) ایک دفعہ بالکل گھریلو ماحول کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور آپ گھر میں چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا اور ہمارے ناناجان یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہو گیا۔حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہو رہی ہے حج کو چلنا چاہیے اس وقت زیارت حرمین شریفین کے تصور میں حضرت مسیح موعود کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے حضرت نانا جان کی بات سن کر فر مایا یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا ؟“ ( روایات نواب مبارکه بیگم صاحبه ) یہ ایک خالصۂ گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اس اتھاہ سمندر کی طغیانی لہر یں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشق رسول کے متعلق حضرت مسیح موعود کے قلب صافی میں موجزن تھیں۔حج کی کس سچے مسلمان کو خواہش نہیں مگر ذرا اس شخص کی بے پایاں محبت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصور میں پروانہ وار رسول پاک (فداہ نفسی) کے مزار پر پہنچ جاتی ہے اور وہاں اس کی آنکھیں