سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 277 of 315

سیرت طیبہ — Page 277

۲۷۷ بالآخر جب حضرت مسیح موعود دلی کے سفر سے قادیان کو واپس روانہ ہونے لگے تو خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضور سے درخواست کی کہ آپ حضرت نظام المشائخ کے مزار پر تشریف لے گئے تھے اس کے متعلق کچھ مناسب الفاظ تحریر فرماویں۔حضور نے وعدہ فرمایا کہ قادیان جا کر لکھ دوں گا۔چنانچہ قادیان واپس پہنچنے پر حضور نے خواجہ حسن نظامی صاحب کو ذیل کی تحریر لکھ کر بھجوادی جو دتی کے حالات سفر اور دتی والوں کے انکار کی گویا ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔حضور اس تحریر میں فرماتے ہیں کہ ” مجھے جب دہلی جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے ان صلحاء اور اولیاء الرحمن کے مزاروں کی زیارت کا شوق پیدا ہوا جو اس خاک میں سوئے ہوئے ہیں کیونکہ جب مجھے دہلی والوں کی طرف سے محبت محسوس نہ ہوئی تو میرے دل نے اس بات کے لئے جوش مارا کہ وہ ارباب صدق وصفا اور عاشقانِ حضرت مولیٰ جو میری طرح اس زمین کے باشندوں سے بہت سے جور و جفا دیکھ کر اپنے محبوب حقیقی کو جاملے اُن کے متبرک مزاروں سے ہی اپنے دل کو خوش کرلوں۔پس میں اسی نیت سے حضرت خواجہ شیخ نظام الدین اولیاء رضی اللہ عنہ کے مزار متبرک پر گیا۔اور ایسا ہی دوسرے چند مشائخ کے متبرک مزاروں پر بھی گیا۔خدا ہم سب کو اپنی رحمت سے معمور کرے۔آمین ثم آمین۔الراقم عبد اللہ الصمد غلام احمد المسيح الموعود من الله الاحد 66 ( بدر ۲۴ / نومبر ۱۹۰۵ء) حضرت مسیح موعود کی اس تحریر میں جس گہرے رنج و الم اور جس دلی حسرت کا