سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 276 of 315

سیرت طیبہ — Page 276

جھاڑتے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔دتی نہ صرف بڑے بڑے جاہ و حشمت والے مسلمان بادشاہوں اور شان و شوکت والے حکمرانوں کا دارالحکومت رہا تھا بلکہ اس کی سرزمین میں بہت سے بزرگ اور اولیاء اور صلحاء بھی پیدا ہوئے تھے جن کے مزار آج دتی کے زندہ انسانوں کی بجائے لوگوں کی زیادہ کشش کا موجب بنے ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی منکسرانہ طبیعت اور نیک لوگوں کی سنت کے مطابق ارادہ کیا کہ جو مجددین اور اولیاء کرام دتی کی خاک میں مدفون ہیں اُن کی قبروں پر جا کر دعا کریں اور اُن کے لئے اور اہل دتی کے لئے خدا سے خیر و برکت کے طالب ہوں۔چنانچہ حضور اس سفر کے دوران میں حضرت شیخ نظام الدین اولیاء اور حضرت سید ولی اللہ شاہ اور حضرت خواجہ باقی باللہ اور حضرت خواجہ بختیار کا کی اور حضرت خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہم کے مزاروں پر تشریف لے گئے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر درددل سے دعا فرمائی۔جب آپ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کے مزار پر تشریف لے گئے تو اُس وقت یہ عاجز بھی بچپن کی عمر میں آپ کے ساتھ تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ دعا کے بعد حضور نے فرمایا کہ اس وقت اس جگہ لوگوں کی کثرت ہے اور شور زیادہ ہے ورنہ میں یقین رکھتا ہوں کہ مجھے اس جگہ کشف کے ذریعہ بیداری کی حالت میں ہی حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کی ملاقات ہو جاتی۔اُس وقت خواجہ حسن نظامی صاحب مرحوم بالکل نوجوان تھے اور وہ حضور کے ساتھ ہوکر بڑے ادب کے طریق پر حضور کو درگاہ کی مختلف زیارت گاہیں دکھاتے پھرتے تھے۔