سیرت طیبہ — Page 20
مشہور و معروف تصنیف کشتی نوح میں فرماتے ہیں :۔کیا ہی بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوب صورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لایق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس ؤف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں“۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱، ۲۲) دوستو ! ان الفاظ پر غور کرو اور اس محبت اور اس تڑپ کی گہرائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کرو جو ان الفاظ کی تہہ میں پنہاں ہے۔آپ یقینا اس کا صحیح اندازہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر اندازہ بھی آپ اپنے ظرف کے مطابق کریں گے اس کے نتیجہ میں لازما آپ کی روحانیت میں علی قدر مراتب غیر معمولی بلندی اور غیر معمولی ترقی اور غیر معمولی روشنی پیدا ہوگی۔