سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 215 of 315

سیرت طیبہ — Page 215

۲۱۵ ہیں۔مگر جس شخص میں ذرا بھی سعادت کا مادہ ہو اور اس کے دل کی آنکھیں بالکل ہی اندھی نہ ہو چکی ہوں وہ علی قدر مراتب خدائی ماموروں اور مرسلوں کی روحانی تاثیرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ آریہ بھی اپنے پرانے قومی تعصبات کی وجہ سے مسلمان تو نہیں ہو سکا مگر اس کا دل مفتوح ہو کر حضرت مسیح موعود کے قدموں میں گر چکا تھا اور اس کے بعد اسے کبھی حضرت مسیح موعود کے سامنے آنے اور آنکھیں اونچی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔اسی روایت میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی اس وقت کی تقریر کا ڈاکٹر صادق علی صاحب پر بھی ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضور سے علیحدگی میں مل کر بیعت کی درخواست کی اور اصرار کیا کہ میری بیعت ضرور قبول فرمائی جائے۔مگر حضرت مسیح موعود نے یہ خیال کر کے کہ ڈاکٹر صاحب غالباً کسی وقتی جذبہ کے ماتحت ایسا کہہ رہے ہیں عذر کر دیا اور فرمایا کہ آپ جلدی نہ کریں اور اچھی طرح سوچ سمجھ لیں۔ایسا عذر حضرت مسیح موعود کی طرف سے رحیمانہ شفقت کی بناء پر ہوا کرتا تھا کیونکہ جب آپ یہ محسوس کرتے تھے کہ کوئی شخص جلدی میں پورے سوچ بچار کے بغیر بیعت کرنے لگا ہے تو آپ اس ڈر سے کہ وہ بعد میں بیعت کا عہد توڑ کر اور ارتداد کا رستہ اختیار کر کے خدائی عذاب کا نشانہ نہ بن جائے بیعت قبول کرنے سے انکار فرما دیا کرتے تھے کہ جلدی نہ کرو اور اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔پھر ان میں سے سعید الفطرت لوگ تو کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ آکر بیعت کر لیتے تھے مگر بعض لوگ مخالفانہ اثر کے ماتحت رُک جاتے تھے۔اس جگہ ایک جملہ معترضہ کے طور پر میں اپنے دوستوں سے یہ معذرت کرنا