سیرت طیبہ — Page 136
تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے دریافت کیا کہ آپ توجہ کے علم کے ماہر ہیں اس علم میں آپ کا سب سے بڑا کمال کیا ہے؟ منشی صاحب مرحوم بڑے منکسر المزاج صوفی فطرت کے نیک بزرگ تھے انہوں نے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ حضرت میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگر میں کسی شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ تڑپ کر زمین پر گر جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔د و منشی صاحب! اس سے اس کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچا اور آپ کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچا ؟ اور اس کے نفس کی پاکیزگی اور خدا کے تعلق میں کیا ترقی ہوئی ؟“ حضرت منشی صاحب بڑی نکتہ رس طبیعت کے بزرگ تھے بے ساختہ عرض کیا۔حضرت ! میں سمجھ گیا ہوں۔یہ ایک ایسا علم ہے جسے حقیقی روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔“ یہ حضرت منشی احمد جان صاحب وہی بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعلیٰ روحانی مقام کو شناخت کر کے اور دنیا کی موجودہ ابتر حالت کو دیکھتے ہوئے حضور کے دعوئی اور سلسلہ بیعت سے بھی پہلے حضور کو مخاطب کر کے یہ شعر کہا تھا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر مسیحا بنو خدا کے لئے حضرت مسیح موعود تو خدا کی قدرت نمائی سے مسیح بن گئے مگر افسوس کہ حضرت منشی صاحب اس سے پہلے ہی اس دار فانی سے کوچ کر کے اپنے مولیٰ کے حضور جا پہنچے۔(سیرۃ المہدی جلد ا حصہ اوّل صفحہ ۱۳۳)