سیرت طیبہ — Page 84
۸۴ تشویشناک بیماری کی وجہ سے میرے لئے کافی پریشانی میں گذرا ہے اور ان کی تیاداری کی وجہ سے مجھے کئی ماہ تک ربوہ سے باہر لاہور میں ٹھہرنا پڑا ہے اور بعض دوسری پریشانیاں بھی رہیں مگر میں نے ان روکوں کے باوجود ناظر صاحب اصلاح و ارشاد کی دعوت کو اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے ہوئے اسے قبول کر لیا اور اب اپنے دوستوں کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ و اخلاق کے چند پہلو پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں۔جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے میری گذشتہ سال کی تقریر حضرت مسیح موعود کی سیرۃ کے تین مخصوص بنیادی پہلوؤں سے تعلق رکھتی تھی جنہیں اپنے باہمی ربط کی وجہ سے گویا ہم تین لڑیوں والی مالا کا نام دے سکتے ہیں لیکن اس سال میں حضرت مسیح موعود کے اخلاق و عادات کے چند متفرق اور گویا غیر مربوط ( گوحقیقت کسی انسان کے اخلاق بھی فی الواقعہ غیر مربوط نہیں ہوتے ) پہلوؤں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ ہمارے دوستوں کو معلوم ہو اور دنیا پر بھی ظاہر ہو جائے کہ محمدی سلسلہ کا مسیح اپنے مربوط اخلاق اور بظاہر غیر مربوط اخلاق دونوں میں کس شان کا مالک تھا۔اسی لئے میں نے اپنے موجودہ مضمون کا نام در منشور یعنی چند بکھرے ہوئے موتی رکھا ہے۔یقینا ان بکھرے ہوئے موتیوں کو بھی ایک گہرے ربط و نظم کی زنجیر باندھے ہوئے ہے جو ایک طرف خالق کی محبت اور دوسری طرف مخلوق کی ہمدردی کے ساتھ فطری طور پر منسلک ہے۔لیکن چونکہ بظاہر یہ اخلاق متفرق نوعیت کے ہیں اس لئے میں نے انہیں درمنثور کا نام دیا ہے اور اسی مختصر تمہید کے ساتھ میں اپنے اس مضمون کو خدائے رحمن و رحیم کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں۔وَمَا تَوْفِيقِى إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ