سیرت طیبہ — Page 58
۵۸ رکھتا ہے۔میں اس معاملہ میں زیادہ بیان کرتے ہوئے طبعا حجاب محسوس کرتا ہوں اس لئے صرف اس مختصر سی بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس ارشاد نبوی کا کامل نمونہ تھے کہ :۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ (ترمذی ابواب المناقب باب فضل ازواج النبی صلی الله علیه وسلم) د یعنی خدا کے نزدیک تم میں سے بہتر انسان وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلوک کرنے میں بہتر ہے۔“ اس کی تشریح میں اس تاثر کو بیان کرنے میں حرج نہیں جو اس معاملہ میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جماعت کے دلوں میں پایا جاتا تھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو ساری جماعت جانتی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مقرب صحابی تھے۔ایک دفعہ ان کا اپنی بیوی کے ساتھ کسی امر میں کچھ اختلاف ہو گیا اور حضرت مفتی صاحب اپنی بیوی پر خفا ہوئے۔مفتی صاحب کی اہلیہ نے اس خانگی ناراضگی کا حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی بڑی بیوی کے ساتھ ذکر کیا۔غالبا ان کا منشاء یہ تھا کہ اس طرح بات حضرت اماں جان تک اور پھر حضرت مسیح موعود تک پہنچ جائے گی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب طبیعت کے بہت ذہین اور بڑے بذلہ سنج تھے۔اس رپورٹ کے پہنچنے پر مفتی صاحب سے فرمایا ”مفتی صاحب جس طرح بھی ہوا اپنی بیوی کو منالیں کیا آپ نہیں جانتے کہ آج کل ملکہ کا راج ہے؟ لطیفہ اس بات میں یہ تھا کہ ان ایام میں ہندوستان پر ملکہ وکٹوریہ کی حکومت تھی اور حضرت مولوی صاحب کے الفاظ میں یہ بھی اشارہ تھا کہ حضرت مسیح موعود مستورات کے حقوق کا بہت