سیرت طیبہ — Page 52
۵۲ کہ یہ ہند و صاحبان بیٹھے ہیں ان کو اس پر اعتراض ہے کہ ہمارے گھروں کی بے پردگی ہوگی۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا یہ اعتراض درست نہیں بلکہ ان لوگوں نے محض ہماری مخالفت میں یہ درخواست دی ہے ورنہ بے پردگی کا کوئی سوال نہیں۔اور اگر بالفرض کوئی بے پردگی ہے بھی تو وہ ہماری بھی ہے۔پھر آپ لالہ بڈھا مل کی طرف اشارہ کیا جو بعض دوسرے ہندوؤں کے ساتھ مل کر ان ڈپٹی صاحب کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے پاس آئے تھے اور فرمایا کہ یہ لالہ بڈھا مل بیٹھے ہیں آپ ان سے پوچھیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ میرے لئے ان کو فائدہ پہنچانے کا کوئی موقع پیدا ہوا ہو اور میں نے ان کی امداد میں دریغ کیا ہو۔اور پھر ان سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کا انہیں کوئی موقع ملا ہو اور یہ نقصان پہنچانے سے رکے ہوں؟ حافظ روشن علی صاحب جو سلسلہ احمدیہ کے ایک جید عالم تھے بیان کیا کرتے تھے کہ اس وقت لالہ بڈھا مل پاس بیٹھے تھے مگر شرم اور ندامت کی وجہ سے انہیں جرات نہیں ہوئی کہ حضرت مسیح موعود کی بات کا جواب دینا تو در کنار حضور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکیں۔حقیقت یہ مخالفوں اور ہمسایوں پر شفقت کی ایک شاندار مثال (سیرۃ المہدی جلد احصہ اول صفحه ۱۳۸ روایات نمبر ۱۴۸) ہے۔(^) ہماری جماعت کے اکثر پرانے دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائیوں مرزا امام دین صاحب اور مرزا نظام دین صاحب کو جانتے ہیں یہ دونو اپنی