سیرت طیبہ — Page 48
۴۸ سب و نسب کے متعلق بعض طعن آمیز سوالات کرنے چاہے مگر حضرت مسیح موعود نے انہیں یہ کہہ کر سختی سے روک دیا کہ میں آپ کو ایسے سوالات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور یہ الفاظ فرماتے ہوئے آپ نے جلدی سے مولوی فضل دین صاحب کے منہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ کہیں ان کی زبان سے کوئی نا مناسب لفظ نہ نکل جائے اور اس طرح اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔اس کے بعد مولوی فضل دین صاحب موصوف ہمیشہ اس واقعہ کا حیرت کے ساتھ ذکر کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب عجیب اخلاق کے انسان ہیں کہ ایک شخص ان کی عزت بلکہ جان پر حملہ کرتا ہے اور اس کے جواب میں جب اس کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے اس پر بعض سوالات کئے جاتے ہیں تو آپ فورا روک دیتے ہیں کہ میں ایسے سوالات کی اجازت نہیں دیتا۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۷ ۲۴، ۲۴۸) یہ وہی مولوی محمدحسین صاحب ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس شعر میں ذکر کیا ہے کہ :۔قطعتَ وَدَادًا قَدْ غَرَسُنَاهُ فِي الصَّبَا وَلَيْسَ فُؤَادِي فِي الْوَدَادِ يُقَدِرُ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۳۵) د یعنی تو نے اس محبت کے درخت کو اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا جو ہم نے جوانی کے زمانہ میں اپنے دلوں میں نصب کیا تھا۔مگر میرا دل تو کسی صورت میں محبت کے معاملہ میں کمی اور کوتاہی کرنے والا نہیں۔“