سیرت طیبہ — Page 37
۳۷ "مرزا صاحب کی رحلت نے ان کے بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا بھی جو اس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔۔۔۔مرزا صاحب کے لٹریچر کی قدرو عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑا دیئے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔۔۔۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بھی مرزا صاحب نے اسلام کی خاص خدمت سر انجام دی ہے۔۔۔۔آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ مرزا صاحب کی یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔“ (اخبار وکیل امرتسر جون ۱۹۰۸ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بے مثال قلمی جہاد جو آپ نے اسلام کی صداقت اور قرآن کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے عمر بھر کیا وہ بے شک بظا ہر علمی نوعیت کا تھا اور بادی النظر میں اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے پہلو سے براہ راست کوئی تعلق نہیں مگر غور کیا جائے تو اسلام کو رسول پاک سے اور رسول پاک کو اسلام سے کسی طرح جدا نہیں کیا جاسکتا۔پس دراصل یہ ساری خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور آپ کے لائے ہوئے دین کے ساتھ والہانہ