سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 35 of 315

سیرت طیبہ — Page 35

۳۵ (١٢) عشق کا لازمی نتیجہ قربانی اور فدائیت اور غیرت کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں یہ جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا۔ایک جگہ عیسائی پادریوں کے ان جھوٹے اور نا پاک اعتراضوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات پر کیا کرتے ہیں کہ عیسائی مشنریوں نے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعہ ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھانے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولا د اور اولاد کی اولا د اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ