سیرت طیبہ — Page 34
۳۴ د یعنی اے میرے آقا! میری طرف رحمت اور شفقت کی نظر رکھ۔میں تیرا ایک ادنی ترین غلام ہوں۔اے میرے محبوب! تیری محبت میرے رگ وریشہ میں اور میرے دل میں اور میرے دماغ میں رچ چکی ہے۔اے میری خوشیوں کے باغیچے میں ایک لمحہ اور ایک آن بھی تیری یاد سے خالی نہیں رہتا۔میری روح تو تیری ہو چکی ہے مگر میرا جسم بھی تیری طرف پرواز کرنے کی تڑپ رکھتا ہے۔اے کاش! مجھ میں اڑنے کی طاقت ہوتی۔“ ان اشعار میں جس محبت اور جس عشق اور جس تڑپ اور جس فدائیت کا جذبہ جھلک رہا بلکہ چھلک رہا ہے وہ کسی تبصرہ کا محتاج نہیں۔کاش ہمارے احمدی نوجوان اس محبت کی چنگاری سے اپنے دلوں کو گرمانے کی کوشش کریں اور کاش ہمارے غیر احمدی بھائی بھی اس عظیم الشان انسان کی قدر پہچانیں جس کے متعلق ہم سب کے آقا اور سردار حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ د دود يُدفَنُ مَعِي فِي قَبْرِي “ (کتاب الوفاء لا بن الجوزى ومشكوة وهج الكرامة ) یعنی آنے والے مسیح کو میری روح کے ساتھ ایسی گہری مناسبت اور ایسا شدید لگاؤ ہوگا کہ اس کی روح وفات کے بعد میری روح کے ساتھ رکھی جائے گی۔“