سیرت طیبہ — Page 295
فرماتے ہیں کہ ۲۹۵ پُر خطر ہست این بیابان حیات صد ہزاراں اژر د بایش در جهات صد ہزاراں فرسخے تا کوئے یار دشت پر خار و بلایش صد ہزار بنگر این شوخی ازاں شیخ عجم ایں بیاباں کرد طے از یک قدم (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۰) یعنی یہ زندگی کا بیابان جنگل خطروں سے بھرا پڑا ہے جس میں ہزاروں زہریلے سانپ ادھر اُدھر بھاگتے پھرتے ہیں اور آسمانی معشوق کے رستے میں لاکھوں کروڑوں میل کا فاصلہ ہے جس میں بے شمار خاردار جنگلوں اور لاکھوں امتحانوں میں سے گزرنا پڑتا ہے مگر اس عجمی شیخ کی ہوشیاری اور تیز رفتاری دیکھو کہ اس خطر ناک جنگل کو صرف ایک قدم سے طے کر گیا۔“ پھر ایک چوہدری رستم علی صاحب تھے جو حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابی تھے اور بڑے سادہ مزاج بزرگ اور مخلص انسان تھے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے جماعت میں کسی خاص موقعہ پر چندے کی تحریک کی اور چوہدری رستم علی صاحب کو بھی خط لکھا۔اسی دن اتفاق سے اُن کو اُن کی خاص ترقی کے احکام آئے تھے اور وہ سب انسپکٹر پولیس سے انسپکٹر بنا دیئے گئے تھے اور اُن کی تنخواہ میں اتنی روپے ماہوار کا