سیرت طیبہ — Page 266
۲۶۶ بعد قادیان چلے آئے تھے۔مسماۃ امۃ اللہ کو بچپن میں آشوب چشم کی سخت شکایت ہو جاتی تھی اور آنکھوں کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ انتہائی درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے وہ آنکھ کھولنے تک کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔اس کے والدین نے اس کا بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا اور تکلیف بڑھتی گئی۔ایک دن جب اس کی والدہ اسے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دوائی ڈالنے لگی تو وہ ڈر کر یہ کہتے ہوئے بھاگ گئی کہ میں تو حضرت صاحب سے دم کراؤں گی چنانچہ وہ بیان کرتی ہے کہ میں گرتی پڑتی حضرت مسیح موعود کے گھر پہنچ گئی اور حضور کے سامنے جا کر روتے ہوئے عرض کیا کہ میری آنکھوں میں سخت تکلیف ہے اور درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے میں بہت بے چین رہتی ہوں اور اپنی آنکھیں تک کھول نہیں سکتی۔آپ میری آنکھوں پر دم کردیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو میری آنکھیں واقعی خطر ناک طور پر ابلی ہوئی تھیں اور میں درد سے بے چین ہو کر کراہ رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی انگلی پر اپنا تھوڑا سا لعاب دہن لگا یا اور ایک لمحہ کے لئے رُک کر (جس میں شاید حضور دل میں دعا فرمارہے ہوں گے) بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ اپنی یہ انگلی میری آنکھوں پر آہستہ آہستہ پھیر دی اور پھر میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بچی جاؤ اب خدا کے فضل سے تمہیں یہ تکلیف پھر کبھی نہیں ہوگی۔“ روایت مسماۃ امۃ اللہ بی بی مہاجرہ علاقہ خوست ) مسماۃ امتہ اللہ بیان کرتی ہے کہ اس کے بعد آج تک جبکہ میں ستر سال کی بوڑھی ہو چکی ہوں کبھی ایک دفعہ بھی میری آنکھیں دکھنے نہیں آئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ