سیرت طیبہ — Page 255
۲۵۵ میں نماز ادا کی اس پر بعض اخباروں میں اعتراض اٹھایا گیا کہ امیر کی یہ حرکت غیر اسلامی ہے اور آداب مسجد کے خلاف ہے۔اور کسی احمدی نے یہ خبر حضرت مسیح موعود کو بھی جاسنائی کہ امیر حبیب اللہ خان نے مسجد کی ہتک کی ہے اور جوتے پہن کر اندر چلا گیا ہے اور جوتوں میں ہی نماز ادا کی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے اعتراض کرنے والے کو فورا ٹوک کر فرمایا کہ اس معاملہ میں امیر حق پر تھا کیونکہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز ہے۔“ (اخبار بدر ۱۱ را پریل ۱۹۰۷ء) سنانے والے نے تو یہ خبر اس لئے سنائی ہوگی کہ چونکہ امیر حبیب اللہ خان احمدیت کا دشمن ہے اور اس نے ایک برگزیدہ اور پاکباز احمدی بزرگ صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کو محض احمدیت کی وجہ سے انتہائی ظلم کے طریق پر سنگسار کرادیا ہے اس لئے غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس کی دشمنی اور عداوت کی وجہ سے اُس کا ذکر آنے پر اُس کے متعلق ناراضگی کا اظہار فرمائیں گے مگر اس پیکرِ انصاف و صداقت نے جو اپنے جانی دشمنوں کے لئے بھی حق و انصاف کا پیغام لے کر آیا تھا سنتے ہی فرما یا کہ یہ اعتراض غلط ہے اس میں امیر کی کوئی غلطی نہیں کیونکہ جوتے پہن کر مسجد میں جانا جائز ہے 66 یہ اس وسیع رحمت کا ثبوت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک دل میں دوستوں اور دشمنوں اور اپنوں اور بیگانوں اور چھوٹوں اور بڑوں سب کے لئے خالقِ