سیرت طیبہ — Page 236
۲۳۶ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آخَرِينَ مِنْهُم والی آیت نازل ہوئی تو صحابہ کے دریافت کرنے پر کہ یا رسول اللہ ! یہ آخَرِينَ مِنْهُمْ کی جماعت کون ہے؟ آپ نے اپنے صحابی حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان دنیا سے اُٹھ کر ثریا کے دور دراز ستارے پر بھی چلا گیا تو 66 پھر بھی ان اہل فارس میں سے ایک شخص اُسے دوبارہ دنیا میں اتار لائے گا۔“ (بخاری کتاب التفسير تفسير سورة جمعة) سو اس زمانہ میں جو لا ریب اخرین کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کے احمد نام کی جمالی شان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ جو نسلی لحاظ سے فارسی الاصل تھے دنیا میں ظاہر ہو اور اسلام اپنے وسطی دور کی کمزوری کے بعد پھر غیر معمولی ترقی اور عالمگیر غلبہ کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے وسیع فاتحانہ تبلیغی نظام کے ذریعہ جس نے خدا کے فضل سے ساری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے اس غلبہ کا بیج بویا جا چکا ہے۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر لکھا ہے اب یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔یہی وہ مقامِ مہدویت ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں بڑی تحدی کے ساتھ فرماتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر دنیا کی زندگی میں صرف ایک دن بھی باقی ہوگا تو تب بھی خدا اس دن کو لمبا کر دے گا تاوقتیکہ وہ اس شخص کو مبعوث کر دے جو میرے اہل یعنی