سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 219 of 315

سیرت طیبہ — Page 219

۲۱۹ کے نتیجہ میں بیمار بچہ لحظہ بہ لحظہ صحتیاب ہونا شروع ہو گیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد ہر ایک شخص جو اس بچہ کو دیکھتا تھا اس کا دل خدا تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا تھا کہ لاریب حضور کی دعا سے ایک مردہ زندہ ہو گیا ہے۔دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے کہ ماہر طبیب بچے کی حالت دیکھ کر اس کی صحت کے متعلق مایوسی کا اظہار کرتے اور سپر ڈال دیتے ہیں بلکہ دعا ہونے پر خدا تعالیٰ خود بھی فرماتا ہے کہ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر‘ مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کی اجازت سے شفاعت کرتے ہیں تو یہ شفاعت خدا کے ہاں مقبول ہوتی ہے اور گویا ایک مردہ زندہ ہوکر قبر سے باہر آ جاتا ہے۔سچ ہے کہ قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے اس روایت سے شفاعت کے مسئلہ پر بھی دلچسپ روشنی پڑتی ہے۔شفاعت بھی گو ایک قسم دعا ہی کی ہے مگر وہ عام دعا سے بہت بالا اور ارفع چیز ہے۔دراصل شفاعت کے معنی دو چیزوں کے باہمی جوڑ کے ہیں۔دعا کرنے والا تو صرف سوالی بن کر خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے مگر شفاعۃ کرنے والا اپنے خاص تعلق کا واسطہ دے کر اور اپنے آپ کو خدا سے پیوست کر کے خدا سے ایک چیز مانگتا ہے۔اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اس لئے خدا نے اجازت کے بغیر شفاعت جائز نہیں رکھی۔کیونکہ جب خدا کا کوئی خاص مقرب بندہ اپنے تعلق کا واسطہ دے کر خدا سے شفاعت کے رنگ میں کوئی چیز مانگتا ہے تو اُس وقت خدا تعالیٰ کی محبت غیر معمولی طور پر جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندے کے اکرام کی وجہ سے انکار