سیرت طیبہ — Page 206
۲۰۶ قربانیوں کا دن ہے کیونکہ خدا کی طرف سے اس دن میں عظمندوں کے لئے بڑی بڑی حکمتیں ودیعت کی گئی ہیں۔حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھنے اور تقریر شروع کرنے کے بعد یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا اب حضور کسی دوسری دنیا میں چلے گئے ہیں۔حضور کی آنکھیں قریباً بند تھیں اور چہرہ مبارک اس طرح پر منور نظر آتا تھا کہ گویا انوار الہیہ نے اسے پوری طرح ڈھانپ کر غیر معمولی طور پر روشن اور ضیا پاش کر رکھا ہے۔اس وقت حضور کے چہرہ پر نظر نہیں جمتی تھی اور حضور کی پیشانی سے نور کی اتنی تیز شعائیں نکل رہی تھیں کہ ہر دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں۔زبانِ مبارک تو بظا ہر حضور ہی کی چلتی ہوئی نظر آتی تھی مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ گویا وہ بے اختیار ہو کر کسی غیبی طاقت کے چلانے سے چل رہی ہے۔حضرت بھائی صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت کی حالت لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اس وقت کے انقطاع الی اللہ اور توکل اور ر بودگی اور بے خودی اور محویت کا یہ عالم تھا کہ اس کی تصویر کھینچنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔حضور کی اس فصیح و بلیغ معجزانہ عربی تقریر کے بعد جو کتاب خطبہ الہامیہ کے ابتدائی اڑتیس صفحوں میں چھپ چکی ہے حاضرین کی خواہش پر حضرت مولوی عبد الكريم صاحب نے اسی مجلس میں اس تقریر کا اردو میں ترجمہ کر کے سنایا۔ترجمہ کے دوران میں اللہ تعالیٰ کے کسی خاص القا یا اندرونی جذبہ کے ماتحت حضرت مسیح موعود ایک فقرہ پر کرسی سے اٹھ کر بے اختیار سجدے میں گر گئے اور حضور کے ساتھ ہی سارے حاضرین نے بھی اپنی پیشانی اپنے آسمانی آقا کے سامنے زمین پر رکھ دی۔اصحاب احمد جلد ۹ ص ۲۶۷)