سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 204 of 315

سیرت طیبہ — Page 204

۲۰۴ عید الاضحی کے موقعہ پر فرمائی " خطبة الهامية “ کے نام سے چھپ چکی ہے اور باوجود اس کے کہ یہ تقریر ایک گھنٹے سے زائد وقت میں بغیر کسی قسم کی تیاری کے بالکل فی البدیہ طور پر کی گئی عربی کلام کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جسے پڑھ کر عرب ممالک کے ادیب بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔اس عجیب وغریب واقعہ کے متعلق سلسلہ کے اخبارات اور کتب میں کسی قدر تفصیلی بیانات شائع ہو چکے ہیں مگر میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے قدیم نو مسلم صحابی حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کی چشم دید اور گوش شنید روایت کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔حضرت بھائی صاحب روایت کرتے ہیں کہ عید الاضحی ۱۹۰۰ ء سے ایک دن قبل جو حج کا دن تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب ( خلیفہ اول) کو کہلا بھیجا کہ میں یہ حج کا دن خاص دعاؤں میں گزارنا چاہتا ہوں اس لئے جو دوست دعا کی درخواست دینا چاہیں آپ ان کے نام لکھ کر اور فہرست بنا کر مجھے بھجوا دیں۔چنانچہ حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس دن کثرت کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وساطت سے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کی درخواستیں پہنچیں اور بعض اصحاب نے براہ راست بھی دعا کی درخواست لکھ کر حضور کی خدمت میں بھجوائی۔اور چونکہ اس زمانہ میں عید کے موقعہ پر بیرونی مقامات سے بھی کافی دوست عید پڑھنے اور حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے مشرف ہونے کے لئے قادیان آجایا کرتے تھے وہ بھی اس غیبی تحریک میں شامل ہوگئے۔اور یہ دن قادیان میں خاص دعاؤں اور غیر معمولی تضرعات اور بڑی برکات میں گزرا۔دوسرا دن عید کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز سے پہلے فرمایا کہ