سیرت طیبہ — Page 182
۱۸۲ روحانی مصلح ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ قطع نظر مذہب وملت کے ہر مسلمان کو اپنے ملک کی حکومت کا وفادار شہری بن کر رہنا چاہیے۔یہ وہی زریں تعلیم ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مکی زندگی میں جبکہ آپ قریش کی قبائلی حکومت کے ماتحت تھے اور حضرت موسیٰ نے اپنی مصری زندگی میں جبکہ وہ فرعون کی حکومت کے ماتحت تھے اور حضرت عیسی نے اپنی فلسطینی زندگی میں جبکہ وہ قیصر روما کے ماتحت تھے پوری پوری دیانت داری کے ساتھ عمل کیا۔اور اسی کی اپنے متبعین کو تلقین فرمائی۔اور یہی وہ پر امن تعلیم ہے جو قرآن حکیم نے اس اصولی آیت میں سکھائی ہے۔أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِى الْأَمْرِ مِنْكُمْ - (سوره نساء آیت ۶۰) د یعنی اے مومنو! خدا کی اطاعت کرو اور خدا کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اپنے حاکموں کی بھی اطاعت کرو جو تم پر مقرر ہوں۔“ اس واضح تعلیم کے ماتحت جماعت احمد یہ جواب خدا کے فضل سے ایک عالمگیر جماعت ہے اور ایشیا کے اکثر ممالک اور مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ کے اکثر ممالک اور آسٹریلیا اور انڈونیشیا اور یورپ کے کئی ممالک اور شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ اور جزائر غرب الہند تک میں پھیل چکی ہے جہاں جہاں بھی ہے قطع نظر حکومت کے مذہب وملت کے اپنے اپنے ملک کی سچی وفادار اور دلی خیر خواہ ہے اور جو شخص ہماری نیت کو شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے خواہ وہ کوئی ہو وہ یا تو جھوٹا ہے یا دھوکہ خوردہ ہے۔اس کے سوا کچھ نہیں۔وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ شَهِيدٌ وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى مَنْ كَذَبَ