سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 176 of 315

سیرت طیبہ — Page 176

اصل حقیقت کو صرف خدا جانتا ہے کیونکہ آخرت کی زندگی میں دنیا کے سالوں کے مطابق شمار نہیں ہوگا۔وہاں کے وقت کا پیمانہ دنیا کے وقت کے پیمانے سے بہت مختلف ہے۔مگر بہر حال اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ ہمارے آسمانی آقا کو غریب پروری اور غریب نوازی بہت مرغوب ہے اور حضرت مسیح موعود میں یہ صفت بہت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔(<) یہ مختصر سے دو واقعات ہیں جو میں نے اس جگہ بیان کئے ہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جمالی صفات کی بڑی دلچسپ اور روشن مثالیں ہیں اور ایسی مثالوں سے آپ کی حیات طیبہ بھری پڑی ہے۔جن میں سے بعض گزشتہ سالوں کی تقریروں میں بھی بیان کی جا چکی ہیں لیکن جہاں آپ کی زندگی کا غالب پہلو جمالی تھا جو محبت اور نرمی اور شفقت اور نصیحت سے تعلق رکھتا تھا اور چاند کی طرح دلکش اور دلنواز تھا وہاں کبھی کبھی جہاں ایمانی غیرت کا سوال پیدا ہوتا تھا آپ کی جلالی صفات بھی سورج کی تیز شعاعوں کی طرح بھڑک اٹھتی تھیں۔میں اس تعلق میں اس جگہ دو ایسے واقعات بیان کرتا ہوں جو بظاہر بہت چھوٹے ہیں مگر حقیقتہ روحانی بمب شیل کا حکم رکھتے ہیں اور ان سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو خدائی الہام پر کس قدر بھروسہ اور خدائی نصرت پر کتنا اعتماد تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں گورداسپور میں حضرت مسیح موعود کے خلاف مولوی کرم دین ساکن بھیں کی طرف سے