سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 315

سیرت طیبہ — Page 14

۱۴ کی خدمت میں دن رات مستغرق اور اس کی محبت میں محو ہے اس لئے میں تجھے اپنے اس محبوب کے روحانی فرزند کی حیثیت میں اپنی لا زوال محبت اور اپنی دائگی معیت کے تمغہ سے نوازتا ہوں۔“ (۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ کی اس محبت اور اس معیت اور اس غیرت پر ناز تھا۔چنانچہ جب آپ کو ۵/ ۱۹۰۴ ء میں مولوی کرم دین والے مقدمہ میں یہ اطلاع ملی کہ ہند و مجسٹریٹ کی نیت ٹھیک نہیں اور وہ آپ کو قید کرنے کی داغ بیل ڈال رہا ہے تو آپ اس وقت ناسازی طبع کی وجہ سے لیٹے ہوئے تھے۔یہ الفاظ سنتے ہی جوش کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گئے اور بڑے جلال کے ساتھ فرمایا کہ:۔وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے! چنانچہ اپنے ایک شعر میں بھی فرماتے ہیں کہ (سیرۃ المہدی جلد احصہ اول صفحہ ۸۶) جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے رو بہ زار ونزار اور اسی نظم میں دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۱ و ۱۳۳)