سیرت طیبہ — Page 158
۱۵۸ چند قدم چل سکتا تھا۔دراصل یہ موذی مرض ایک سرکش گھوڑے کی طرح ہے اگر سوار چوکس اور محتاط ہو کر بیٹھے اور غافل نہ ہو تو یہ گھوڑا قابو میں رہتا ہے اور سوار کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور نہ غفلت کی حالت میں بے قابو ہوکر سوار کو اوندھے منہ گرانے کے در پے ہو جا تا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور ہمدرد ڈاکٹروں کے لمبے علاج کا نتیجہ تھا کہ بالآخر اس بیماری کے حملہ سے نجات ملی اور میں اس مضمون کے بیان کرنے کے قابل ہوا ہوں۔لیکن اس عرصہ میں اتنا وقت گزر گیا کہ میں اس مضمون کے لئے خاطر خواہ تیاری نہیں کر سکا اور اب تک بھی ضعف کی صورت میں اس بیماری کا نتیجہ چل رہا ہے۔بہر حال اب جو مواد بھی میسر ہے وہ اپنے حاضرین کے سامنے پیش کرتا ہوں۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيْمِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ