سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 157 of 315

سیرت طیبہ — Page 157

۱۵۷ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تحمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه اس وقت تک ذکر حبیب کے موضوع پر خدا کے فضل سے میری دو تقریریں ہو چکی ہیں پہلی تقریر جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ۱۹۵۹ء میں ہوئی تھی جو " کے نام سے چھپ چکی ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کے تین مخصوص خصائل پر روشنی ڈالی گئی تھی یعنی (۱) محبت الہی اور (۲) عشق رسول اور (۳) شفقت علی خلق اللہ۔اس کے بعد دوسری تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۰ء میں ہوئی جس کا عنوان در منشور تھا۔اس تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض متفرق اخلاق و عادات اور روحانی کمالات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ حضور کی بعض علمی تحقیقاتوں اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر ڈالنے والے واقعات کا بیان تھا۔سو الحمد للہ کہ یہ دونوں تقریریں خدا کے فضل سے کافی مقبول ہوئیں اور ان کا عربی اور انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہوکر بیرونی ممالک میں پہنچ چکا ہے۔اس سال مجھے پھر ذکر حبیب کے موضوع پر ہی تیسری تقریر کے لئے کہا گیا ہے مگر گذشتہ ایام میں مجھے ذیا بیطس کا اتنا شدید حملہ رہا ہے کہ میں بلڈ شوگر کی زیادتی کی وجہ سے چلنے پھرنے سے ہی عملاً معذور ہو گیا تھا۔اور صرف پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر