سیرت طیبہ — Page 152
۱۵۲ د یعنی دعا عبادت کا اندرونی مغز اور اس کی روح ہے جس کے بغیر انسان کی عبادت ایک کھوکھلی ہڈی کے سوا کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔“ (۳۲) پس ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ دعاؤں میں بہت توجہ اور انہماک اور در دوسوز کی کیفیت پیدا کریں اور اسے اپنی زندگی کا سہارا بنا ئیں اور اس پر ایک بے جان رسم کے طور پر نہیں بلکہ ایک زبر دست زندہ حقیقت کے طور پر قائم ہو جائیں اور یقین رکھیں کہ خدا دعاؤں کو سنتا ہے مگر جس طرح وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی التجاؤں کو مانتا ہے اسی طرح وہ کبھی بعض مصالح کے ماتحت ان کی درخواست کو رد کر کے اپنی بھی منواتا ہے۔لیکن کسی دعا کا قبول نہ ہونا دعاؤں کی قبولیت کے بنیادی فلسفہ پر کوئی اثر نہیں رکھتا کیونکہ عام لوگوں کے لئے خدا آقا ہے اور آقا کو حق ہے کہ اپنے کسی خادم کی بداعمالی پر ناراض ہو کر اس کی بعض درخواستوں کو رد کر دے اور اپنے خاص بندوں کے لئے وہ آقا ہونے کے علاوہ دوست بھی ہے اور دوستی کا یہ تقاضا ہے کہ کبھی انسان اپنے دوست کی بات مانے اور کبھی اُسے اپنی بات منوائے۔اور ان دونوں حالتوں میں کسی نہ کسی رنگ میں خدا کی رحمت ہی جلوہ گر رہتی ہے۔دعاؤں کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں کہ یہ بڑی حکمت کا کلام ہے۔فرماتے ہیں کہ ”ہم نے اُسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے اُس کے سوا کوئی نہیں کیا ہی