سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 138 of 315

سیرت طیبہ — Page 138

۱۳۸ ہمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعثت کے لحاظ سے جلالی شان حملہ کے حامل تھے جن کے نور کی زبر دست کرنوں نے عرب کے وسیع ملک کو گویا آنکھ جھپکنے میں بت پرستی کی ظلمت سے نکال کر توحید کی تیز روشنی سے منور کر دیا۔لیکن آپ کا آخری خلیفہ اور اسلام کا خاتم الخلفاء یعنی مسیح محمدی جمال کی چادر میں لپٹا ہوا آیا۔چنانچہ آپ اپنی مشہور نظم میں جس میں آپ نے محبت الہی کے کرشموں کا ذکر کیا ہے فرماتے ہیں آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کر دی کہ از یں خاک نمایاں کردی دو یعنی لوگ تو مسیح کا ٹھکانا آسمان پر بتاتے ہیں اور اس کے نزول کے منتظر ہیں لیکن اے محبت الہی ! تیرا یہ کمال ہے کہ تو نے مجھ خاک کے پتلے کو زمین میں سے ہی ظاہر کر کے مسیحیت کے مقام پر پہنچادیا ہے۔“ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فلسفہ سلوک تمام کا تمام محبت کے محور کے ارد گرد گھومتا ہے خدا سے محبت۔رسول سے محبت۔مخلوق سے محبت۔عزیزوں سے محبت۔ہمسائیوں سے محبت۔دوستوں سے محبت۔دشمنوں سے محبت۔افراد سے محبت۔قوموں سے محبت۔خدا تک پہنچنے کا رستہ محبت۔اور پھر اپنے اصلاحی پروگرام کا مرکزی نقطہ بھی محبت۔چنانچہ محولہ بالا نظم میں محبت کے گن گاتے ہوئے کس جذبہ کے ساتھ فرماتے ہیں:۔گو حقیقت یہ ہے کہ آپ میں جلال و جمال کی ایسی دلآویز آمیزش تھی کہ آپ کے جمال و جلال میں فرق کرنا مشک ہے۔منہ