سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 315

سیرت طیبہ — Page 108

تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشت خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے۔میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر و توانا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔۔۔وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔۔۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔۔۔۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں۔مگر مسیح ایک اور بھی ہے جو اس وقت بول رہا ہے خدا کی غیرت دکھلا رہی ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں مگر انسان کا ثانی موجود ہے۔“ (١٢) (اشتہار ۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء) اسی تعلق میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک دلچسپ روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک کمرہ میں بیٹھے تھے اور حضور کوئی تصنیف فرمارہے تھے کہ کسی شخص نے بڑے زور سے دروازے پر دستک دی۔حضرت مسیح موعود نے مفتی صاحب سے فرمایا کہ آپ دروازہ پر جا کر معلوم کریں کہ کون ہے اور کیا پیغام لایا ہے۔مفتی صاحب نے دروازہ کھولا تو دستک دینے والے