سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 315

سیرت طیبہ — Page 87

۸۷ متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں اور یہ ان بکھرے ہوئے موتیوں میں سے سے پہلا موتی ہے وہ اس پختہ اور کامل یقین کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جو حضرت مسیح موعود کو اپنے خدا داد مشن کے متعلق تھا۔یہ وصف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون میں اس کا ایک زبر دست جلوہ نظر آتا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ اپنے اس یقین کی وجہ سے بڑے سے بڑے پہاڑ کے ساتھ ٹکرانے کے لئے تیار ہیں۔بسا اوقات اپنے خدا داد مشن اور اپنے الہامات کے متعلق مؤکد بعذاب قسم کھا کر فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی مرئی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ ہو سکتا ہے۔اور بعض اوقات اپنی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہوں گی۔اور اگر وہ سنت اللہ کے مطابق پوری نہ ہوں تو میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ مجھے مفتری قرار دے کر پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے۔چنانچہ جب ایک متعصب ہند ولا لہ گنگا بشن نے پنڈت لیکھرام والی پیشگوئی پر یہ اعتراض کیا کہ پنڈت لیکھرام کی موت پیشگوئی کے نتیجہ میں نہیں ہوئی بلکہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود نے پنڈت جی کو خود قتل کروادیا تھا تو حضرت مسیح موعود نے جواب میں انتہائی غیرت اور تحدی کے ساتھ فرمایا کہ اگر لالہ گنگا بشن کا واقعی یہی خیال ہے تو وہ اس بات پر قسم کھا جائیں کہ نعوذ باللہ میں نے خود پنڈت لیکھرام کو قتل کرا دیا تھا۔پھر اگر اس کے بعد لالہ صاحب ایک سال کے اندر اندر ایسی موت کے عذاب میں مبتلا نہ ہوئے جس میں انسانی ہاتھوں کا کوئی دخل متصور نہ ہو سکے تو میں جھوٹا ہوں گا اور مجھے بے شک ایک قاتل کی سزادی جائے۔چنانچہ آپ نے بڑے زور دار الفاظ میں لکھا کہ:۔