سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 75 of 315

سیرت طیبہ — Page 75

۷۵ (4) حضرت اماں جان نَوَّرَ اللهُ مَرْقَدَهَا کو اسلامی احکام کے ماتحت یتیم بچوں کی پرورش اور تربیت کا بھی بہت خیال رہتا تھا۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا ان کے سایہ عاطفت میں ہمیشہ کسی نہ کسی یتیم لڑکی یالڑ کے کو پلتے دیکھا اور وہ یتیموں کو نوکروں کی طرح نہیں رکھتی تھیں بلکہ ان کے تمام ضروری اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ ان کے آرام و آسائش اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے واجبی اکرام اور عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔اس طرح ان کے ذریعہ بیسیوں یتیم بچے جماعت کے مفید وجود بن گئے۔بسا اوقات اپنے ہاتھ سے یتیموں کی خدمت کرتی تھیں۔مثلا یتیم بچوں کو نہلا نا۔ان کے بالوں میں کنگھی کرنا۔کپڑے بدلوانا وغیرہ وغیرہ۔مجھے یقین ہے کہ حضرت اماں جان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت سے انشاء اللہ ضرور حصہ پائیں گے کہ آنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْنِ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی ضم الیتیم یعنی قیامت کے دن میں اور یتیموں کی پرورش کرنے والا شخص اس طرح اکٹھے ہوں گے جس طرح کہ ایک ہاتھ کی دو انگلیاں باہم پیوست ہوتی ہیں۔(۷) مهمان نوازی بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا طرہ امتیاز تھا۔اپنے عزیزوں اور دوسرے لوگوں کو اکثر کھانے پر بلاتی رہتی تھیں۔اور اگر گھر میں کوئی