سیرت طیبہ — Page 67
۶۷ کے ممتاز اخلاق تھے۔۔۔۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت دیکھا جب میں دو برس کا بچہ تھا۔پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ستائیس سال کا جوان تھا۔مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر آپ سے زیادہ خوش اخلاق آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے۔جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا۔اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور ا سے شاداب کر گئی۔“ سیرۃ المہدی جلد ا حصہ سوم روایت ۹۷۵ صفحه ۸۲۴) یہی میری بھی چشم دید شہادت ہے اور اسی پر میں اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَى مُطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمْ وَ آخِرُ دَعْوَنَا آنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۳ دسمبر ۵۹ء