سیرت طیبہ — Page 54
۵۴ دوست سوچیں اور غور کریں کہ حضرت مسیح موعود کے شرکاء کا جن کی دشمنی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی حضور کو دکھ دینے کے لئے اور حضور کی مٹھی بھر جماعت کو اس وقت جماعت مٹھی بھر ہی تھی ) پریشان کر کے منتشر کرنے کے لئے ایک خطر ناک تدبیر کرتے ہیں اور پھر اس تدبیر کو کامیاب بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں اور جھوٹا سچا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔مگر جب وہ ناکام ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود کی اطلاع کے بغیر ان پر خرچہ کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے تو بھاگتے ہوئے حضرت مسیح موعود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ظالم ہوتے ہوئے گلہ کرتے ہیں کہ ہم پر یہ بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود مظلوم ہوتے ہوئے بھی اپنے دشمنوں سے معذرت کرتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے وکیل نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ ڈگری جاری کرا دی ہے یہ سلوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کے اس عدیم المثال سلوک کی اتباع میں تھا جو آپ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مفتوح اور مغلوب دشمنوں سے فرمایا تھا۔آپ نے فرمایا۔اذْهَبُوا أَنْتُمُ الطُلَقَاءِ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - ( بخاری وزرقانی و تاریخ تخمیس ) یعنی جاؤ تم آزاد ہو میری طرف سے تم پر کوئی گرفت نہیں۔“ (۹) پھر اپنے دوستوں اور خادموں کے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجسم عفو و