سیرت طیبہ — Page 53
۵۳ بے دینی اور دنیا داری کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت ترین مخالف تھے بلکہ حقیقتہ وہ اسلام کے ہی دشمن تھے۔ایک دفعہ انہوں نے محض حضرت مسیح موعود کی ایذا رسانی کے لئے حضور کے گھر کے قریب والی مسجد مبارک کے رستہ میں دیوار کھینچ دی اور مسجد میں آنے جانے والے نمازیوں اور حضرت مسیح موعود کے ملاقاتیوں کا رستہ بند کر دیا جس کی وجہ سے حضور کو اور قادیان کی قلیل سی جماعت احمدیہ کو سخت مصیبت کا سامنا ہوا اور وہ گو یا قید کے بغیر ہی قید ہو کر رہ گئے۔لاچار اس مصیبت کو دور کرنے کے لئے وکلاء کے مشورہ سے قانونی چارہ جوئی کرنی پڑی اور ایک لمبے عرصے تک یہ تکلیف دہ مقدمہ چلتا رہا اور بالآخر خدائی بشارت کے مطابق حضرت مسیح موعود کو فتح ہوئی اور یہ دیوار گرائی گئی۔اس پر حضرت مسیح موعود کے وکیل نے حضور سے اجازت لینے بلکہ اطلاع تک دینے کے بغیر مرزا امام دین صاحب اور مرزا نظام دین صاحب کے خلاف خرچہ کی ڈگری حاصل کر کے قرقی کا حکم جاری کرالیا۔اس پر مرزا صاحبان نے جن کے پاس اس وقت اس قرقی کی بے باقی کے لئے پورا روپیہ نہیں تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بڑی لجاجت کا خط لکھا اور یہاں تک کہلا بھیجا کہ بھائی ہو کر اس قرقی کے ذریعہ ہمیں کیوں ذلیل کرنے لگے ہو؟ حضرت مسیح موعود کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ اپنے وکیل پر سخت خفا ہوئے کہ میری اجازت کے بغیر خرچہ کی ڈگری کیوں کرائی گئی ہے؟ اسے فوراً واپس لو۔اور دوسری طرف مرزا صاحبان کو جواب بھجوادیا کہ آپ بالکل مطمئن رہیں کوئی قرقی نہیں ہوگی۔یہ ساری کارروائی میرے علم کے بغیر ہوئی ہے۔(سیرۃ المہدی جلد اول روایت نمبر ۲۴۲ وسیر مسیح موعود مصنفه عرفانی صاحب صفحه ۵ تا ۱۹)