سیرت طیبہ — Page 51
۵۱ (<) قادیان میں ایک صاحب لالہ بڑھامل ہوتے تھے۔یہ صاحب بہت کٹر قسم کے آریہ تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کی بڑی مسجد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے ایک مینار کی بنیاد رکھی تو قادیان کے ہندوؤں نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے پاس شکایت کی کہ اس مینار کی تعمیر روک دی جائے کیونکہ اس سے ہماری عورتوں کی بے پردگی ہوگی یہ ایک فضول عذر تھا کیونکہ اول تو مینار کی چوٹی سے کسی کو پہچانا بہت مشکل ہوتا ہے اور پھر اگر بالفرض کوئی بے پردگی تھی بھی تو وہ سب کے لئے تھی جس میں احمدی جماعت بھی شامل تھی بلکہ جماعت احمد یہ پر اس کا زیادہ اثر پڑتا تھا کیونکہ یہ مینار احمدیہ محلہ میں تھا مگر ڈپٹی کمشنر نے حکومت کے عام طریق کے مطابق ہندوؤں کی یہ شکایت مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے پاس رپورٹ کے لئے بھجوادی۔یہ ڈپٹی صاحب قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود سے ملے اور مینار کی تعمیر کے متعلق حالات دریافت کئے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ہم نے یہ مینار کوئی سیر و تفریح یا تماشا کے لئے نہیں بنایا بلکہ محض ایک دینی غرض کے لئے بنایا ہے تا کہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہواور تا ایک بلند جگہ سے اذان کی آواز لوگوں کے کانوں تک پہنچائی جائے اور روشنی کا انتظام بھی کیا جائے۔ورنہ ہمیں اس پر روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ڈپٹی صاحب نے کہا