سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 49 of 315

سیرت طیبہ — Page 49

۴۹ (1) دوستی اور وفاداری کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل حقیقہ بے نظیر جذبات کا حامل تھا۔آپ نے کسی کے ساتھ تعلقات قائم کر کے ان تعلقات کو توڑنے میں کبھی پہل نہیں کی اور ہر حال میں محبت اور دوستی کے تعلقات کو کمال وفاداری کے ساتھ نبھایا۔چنانچہ آپ کے مقرب حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب روایت کرتے ہیں کہ :۔حضرت مسیح موعود نے ایک دن فرمایا میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص عہد دوستی باندھے مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ شخص کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع تعلق نہیں کر سکتا ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں ورنہ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں میں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو تو ہم بلاخوف لومۃ لائم اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔فرمایا: عہد دوستی بڑا قیمتی جو ہر ہے اس کو آسانی سے ضائع نہیں کر دینا چاہیے۔اور دوستوں کی طرف سے کیسی ہی ناگوار بات پیش آجائے اس پر اغماض اور حمل کا طریق اختیار کرنا چاہیے۔“ (سیرة مسیح موعود مصنفہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب صفحه ۴۶) اسی روایت کے متعلق حضرت مولوی شیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ