سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 315

سیرت طیبہ — Page 29

۲۹ طور پر دیکھی ہے وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف والد صاحب ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اگر کوئی شخص آنحضرت کی شان کے خلاف ذراسی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور غصے سے آنکھیں متغیر ہونے لگتی تھیں اور فورا ایسی مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کسی شخص میں نہیں دیکھا اور مرزا سلطان احمد صاحب نے اس بات کو بار بار دہرایا۔“ (سیرۃ المہدی جلد ا حصہ اول صفحه ۲۰۱،۲۰۰ روایت نمبر ۱۹۶) یہ اس شخص کی شہادت ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل نہیں تھا جس نے حضرت مسیح موعود کو اپنی جوانی سے لے کر حضور کی وفات تک دیکھا جس نے اسی سال کی عمر میں وفات پائی۔جس کے تعلقات کا دائرہ اپنی معز ز ملا زمت اور اپنے ادبی کارناموں کی وجہ سے نہایت وسیع تھا اور جو اپنے سوشل تعلقات میں بالکل صحیح طور پر کہ سکتا تھا کہ جفت خوش حالاں و بد حالاں شدم د یعنی مجھے دنیا میں ہر قسم کے انسانوں سے واسطہ پڑا ہے مگر حضرت مسیح موعود کی زندگی میں غیر احمدی ہونے کی باوجود اس کے عمر بھر کے مشاہدہ کا نچوڑ اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کسی شخص میں نہیں دیکھا۔“