سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 301 of 315

سیرت طیبہ — Page 301

تھا۔حق یہ ہے کہ اس وقت دنیا کا کثیر حصہ اپنے فطری روحانی جو ہر کوکھوکر عملاً حیوانیت کی طرف جھک گیا ہے اور مادیت کے دبیز ظلماتی پردوں میں اس کی روحانیت اس طرح چھپ گئی ہے جس طرح کہ سورج گرہن کے وقت اُس کی تیز روشنی پردوں کے سایہ کے پیچھے چھپ جایا کرتی ہے اسی لئے جب خدا نے حضرت مسیح موعود کو مبعوث فرما یا تو حضور کو یہ الہام کیا کہ يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ - ( تذکرہ ص اے وص ۶۵۹) یعنی ہمارا یہ مسیح دین کو اس کے کمزور ہو جانے کے بعد پھر زندہ کرے گا اور اسلامی شریعت کو دنیا میں پھر دوبارہ قائم کر دے گا۔“ بے شک مقابلہ سخت ہے اور بے حد سخت۔اور کفر و شرک کی فوجیں چاروں طرف سے اسلام پر حملہ آور ہو رہی ہیں اور مادیت کی طاقتیں روحانیت کو کچلنے کے در پے ہیں مگر آخری فتح یقینا حق کی ہوگی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدا دادمشن کامیاب ہوکر رہے گا۔حضور ایک جگہ خدا سے علم پا کر اپنے مشن کی کامیابی اور اسلام کے آخری غلبہ کے متعلق فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں یقینا سمجھو کہ ( کفر و اسلام کی ) اس لڑائی میں اسلام کو مغلوب اور عاجز دشمن کی طرح صلح جوئی کی حاجت نہیں بلکہ اب زمانہ اسلام کی روحانی تلوار کا ہے جیسا کہ وہ پہلے کسی وقت اپنی ظاہری طاقت دکھلا چکا ہے۔یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلّت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح