سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 281 of 315

سیرت طیبہ — Page 281

۲۸۱ بھی عارضہ ہو گیا اور میرے دل میں ایسا نقص پیدا ہو گیا کہ بار بار دل میں درد اٹھتا تھا جس کی لہر بائیں بازو کی طرف جاتی تھی جو ایک خراب علامت سمجھی جاتی ہے۔دراصل ایک دفعہ ۱۹۵۴ء میں مجھے دل کی بیماری کا حملہ ہوا تھا جس کی وجہ سے میں چار ماہ تک موت وحیات کے درمیان لٹکتا رہا۔مگر اس کے بعد میرے خدا نے مجھ پر رحم کیا اور کئی سال تک میری صحت ایسی رہی کہ گو میں بالکل تندرست تو نہیں ہوسکا مگر خدا کے فضل سے علمی کاموں میں توجہ دینے اور ایک حد تک محنت کرنے کے قابل ہو گیا لیکن ۱۹۶۲ء کے آخر میں جبکہ میری عمر شمسی حساب سے ستر سال ہورہی ہے غالباً زیادہ کام کرنے کی وجہ سے میری یہ تکلیف پھر عود کر آئی اور بعض اوقات روزانہ اور بعض اوقات وقفہ وقفہ کے ساتھ دل کی تکلیف کے دورے ہونے لگے اور کمزوری بہت بڑھ گئی۔حال ہی میں لاہور کے ایک قابل ڈاکٹر نے جو ماہر امراض قلب ہیں مجھے ربوہ میں آکر دیکھا اور میرے دل اور جگر اور سینے وغیرہ کا معائنہ کرنے اور دل کا ای سی۔جی فوٹو لینے کے بعد انہوں نے بتایا کہ میرے دل کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے اور مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور تاکید کی کہ مجھے کچھ عرصہ تک محنت اور کوفت اور پریشانی والے کام سے کلی طور پر اجتناب کرتے ہوئے مکمل آرام کرنا چاہیئے۔ان حالات میں مجھے موجودہ تقریر ذکر حبیب یعنی ” آئینہ جمال“ کی تیاری میں اس دفعہ خاطر خواہ توجہ دینے کا موقعہ نہیں مل سکا۔یعنی نہ تو میں ٹھیک طرح روایات اور واقعات کا انتخاب کر سکا ہوں اور نہ ہی میں نے ان روایات اور واقعات کو مؤثر اور