سیرت طیبہ — Page 278
۲۷۸ اظہار نظر آرہا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔گویا یہ خیال کہ دلی کا تاریخی شہر جس کی خاک میں سینکڑوں عالی مرتبہ بزرگ اور صلحاء اور اولیاء مدفون ہیں حضور کے لائے ہوئے نور ہدایت اور اسلام کے دور ثانی کی برکات سے محروم رہا جا رہا ہے حضور کے دل کو بے چین کر رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضور گو یا کشفی حالت میں اپنی آنکھوں کے سامنے ان کثیر التعداد بزرگوں کو دیکھ رہے تھے جو دتی کے چپہ چپہ میں مدفون ہیں اور پھر ان سے ہٹ کر حضور کی نظر ان بزرگوں کی موجودہ اولاد کی طرف جاتی تھی جواب اپنی جہالت اور تعصب کی وجہ سے اس نور کا انکار کر رہی تھی جسے دیکھنے کے لئے ان کے لاکھوں کروڑوں باپ دادا ترستے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔یہی وہ حسرت تھی جس نے حضور کے دل کو بے چین کر دیا مگر حضرت مسیح موعود کی یہ حسرت ہر گز مایوسی کے رنگ میں نہیں تھی بلکہ رنج اور افسوس اور دکھ کے رنگ میں تھی۔اور یہ اسی قسم کی حسرت تھی جس کے متعلق خود خدائے عرش انبیاء کے انکار کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں فرماتا ہے کہ ياخشرة على العِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مَنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ۔(سورة ليس آیت ۳۱) د یعنی حسرت ہے دنیا کے لوگوں پر کہ خدا کی طرف سے جو رسول بھی ان کی طرف آتا ہے وہ ہمیشہ اس کا انکار کرتے اور اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔“ چنانچہ دوسری جگہ لوگوں کے اس انکار اور اپنی اس حسرت کے ساتھ ملاتے ہوئے اپنی آئندہ شاندار مقبولیت کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ