سیرت طیبہ — Page 267
۲۶۷ السلام کے دم کی برکت سے میں اس تکلیف سے ہمیشہ بالکل محفوظ رہی ہوں حالانکہ اس سے پہلے میری آنکھیں اکثر دُکھتی رہتی تھیں اور میں بہت تکلیف اٹھاتی تھی۔وہ بیان کرتی ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے اپنا لعاب دہن لگا کر میری آنکھوں پر دم کرتے ہوئے اپنی انگلی پھیری تو اس وقت میری عمر صرف دس سال کی تھی۔گویا ساٹھ سال کے طویل عرصہ میں حضرت مسیح موعود کے اس روحانی تعویذ نے وہ کام کیا جو اس وقت تک کوئی دوائی نہیں سکی تھی۔دوستوں کو یا درکھنا چاہیئے کہ دم کرنے کا طریق دراصل دعا ہی کی ایک قسم ہے جس میں قولی دعا کے ساتھ کرنے والے کی آنکھوں کی توجہ اور اس کے لمس کی برکت بھی شامل ہو جاتی ہے اور یہ وہی طریقہ علاج ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض حدیثوں میں بھی مذکور ہے اور جس کے ذریعہ حضرت عیسی بھی بعض اوقات اپنے مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے۔چنانچہ کسی شاعر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) کی تعریف میں کیا خوب کہا ہے کہ حسن یوسف، دم عیسی ، ید بیضا داری آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری یعنی تو یوسف جیسے بے مثال حسن کا مالک ہے اور تو مریضوں کو اچھا کرنے میں عیسی کے دم شفا کی غیر معمولی تاثیر بھی رکھتا ہے اور تجھے موسی کی طرح وہ چمکتا ہوا ہاتھ بھی حاصل ہے جس نے فرعون اور اس کے ساحروں کی نظروں کو خیرہ کر دیا تھا۔پس لا ریب تیرے اندر وہ ساری خوبیاں جمع ہیں جو