سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 260 of 315

سیرت طیبہ — Page 260

لئے حفاظت اور سلامتی کا موجب بن جا۔“ (حقیقۃ الوحی نشان نمبر ۱۱۷ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۷۷) چنانچہ اس کے بعد لالہ ملا وامل صاحب بہت جلد اس خطر ناک مرض سے جوان ایام میں گویا موت کا پیغام سمجھی جاتی تھی شفا یاب ہو گئے اور نہ صرف شفا یاب ہو گئے بلکہ سوسال کے قریب عمر پائی اور ملکی تقسیم کے کافی عرصہ بعد قادیان میں فوت ہوئے۔اور باوجود اس کے کہ وہ آخر دم تک مذہباً کثر آریہ رہے ان کی طبیعت پر حضرت مسیح موعود کی نیکی اور تقویٰ اور آپ کی خدا داد روحانی طاقتوں کا اتنا گہرا اثر تھا کہ جب ملکی تقسیم کے وقت قادیان اور اس کے گردو نواح میں شدید فسادات رونما ہوئے اور سکھوں اور ہندوؤں نے اپنے مظالم کے ذریعہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا اور بہت سے بے گناہ مسلمان مرد اور عورتیں اور بچے اور بوڑھے اور بعض احمدی بھی بڑی بیدردی کے ساتھ مارے گئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور جماعت کے اکثر دوست پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور صرف وہی پیچھے رہ گئے جن کو جماعتی انتظام کے ماتحت مقدس مقامات کی آبادی کے لئے ٹھہرے رہنے کا حکم دیا گیا تھا تو اس وقت لالہ ملا وامل صاحب نے اپنے بیٹے لالہ دا تارام کو بلا کر نصیحت کی کہ دیکھو تم ہرگز احمدیوں کی مخالفت نہ کرنا کیونکہ مرزا صاحب نے پیشگوئی کی ہوئی ہے کہ ان کی جماعت قادیان پھر واپس آئے گی اور میں دیکھ چکا ہوں کہ جو بات مرزا صاحب کہا کرتے تھے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔( مسل رپورٹ ہائے از قادیان)