سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 239 of 315

سیرت طیبہ — Page 239

۲۳۹ حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ نے خدا سے الہام پا کر دعویٰ کیا کہ میں وہی مهدی اور وہی مسیح ہوں جس کے ہاتھ پر بالآخر اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی ترقی اور مسیحیت کی شکست مقدر ہے۔اور دراصل غور کیا جائے تو مہدویت اور مسیحیت کے دعوے حقیقتہ ایک ہی ہیں۔کیونکہ وہ ایک دعوے کی دوشاخیں ہیں۔صرف دو جہتوں کی وجہ سے انہیں دو مختلف نام دے دیئے گئے ہیں۔اسی لئے ان دونوں پیشگوئیوں میں حالات بھی ایک جیسے بیان کئے گئے ہیں۔مہدی ہونے کے لحاظ سے آنے والے کے ہاتھ پر اسلام کی تجدید مقدر تھی اور ازل سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ جب آخری زمانہ میں مسلمانوں میں تنزل کے آثار پیدا ہوں گے اور مسلمانوں کے عقائد میں فتور آجائے گا تو اس وقت اس امت کا مہدی ظاہر ہوکر مسلمانوں کے بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح کرے گا اور مسلمانوں کو اپنے آسمانی علم کلام اور باطنی نور ہدایت اور خدا داد روحانیت کے زور سے بلندی کی طرف اٹھاتا چلا جائے گا۔دوسری طرف مسیح ہونے کے لحاظ سے آنے والے مصلح کا یہ کام تھا کہ وہ مسیحیت کے غلبہ کے وقت ظاہر ہو کر صلیب کے زور کو توڑ دے اور اسلام کو پھر اس کے دور اول کی طرح دنیا میں غالب کر دے۔سو دراصل یہ دونوں نام ایک ہی مصلح کو دیئے گئے ہیں اسی لئے ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں صاف طور پر فرماتے ہیں کہ لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى (سنن ابن ماجه کتاب الفتن بابُ الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ )