سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 237 of 315

سیرت طیبہ — Page 237

۲۳۷ میرے عزیزوں میں سے ہوگا اور اس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا ( یہ استعارہ کے رنگ میں کامل موافقت کی طرف اشارہ ہے ) اور وہ ظاہر ہوکر اپنے نورِ ہدایت کے ذریعہ دُنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔حالانکہ وہ اس سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔“ (ابو داؤد کتاب الفتن اول كتاب المهدى ) یہ خیال کہ اسلام میں ایک خونی مہدی کی پیشگوئی کی گئی ہے جو اسلام کو دنیا میں جبر کے ساتھ پھیلائے گا بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔اسلام میں کوئی ایسی پیشگوئی نہیں۔یہ سب کو نہ بین لوگوں کے سطحی خیالات ہیں کہ استعارے کے کلام کو حقیقت پر محمول کر لیا گیا ہے۔اس کے لئے بے شمار قرآنی صراحتوں کے علاوہ صرف یہی عقلی دلیل کافی ہے کہ جبر کے نتیجہ میں اخلاص کے بجائے نفاق پیدا ہوتا ہے یعنی یہ کہ دل میں کچھ ہو اور ظاہر کچھ اور کیا جائے اور اسلام سے بڑھ کر نفاق کا کوئی دشمن نہیں۔قرآن تو یہاں تک فرماتا ہے کہ ”منافق لوگ قیامت کے دن جہنم کے بدترین حصہ میں ڈالیں جائیں گے۔“ (٢) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسرا بنیادی دعوی مسیحیت کا دعویٰ ہے یعنی آپ نے اُس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا جس کی خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور آنحضرت