سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 235 of 315

سیرت طیبہ — Page 235

۲۳۵ (1) جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کا مرکزی نقطہ مہدویت اور مسیحیت کے دعوئی کے اردگرد گھومتا ہے۔آپ نے خدا سے الہام پا کر دعوی کیا کہ اسلام میں جس مہدی کے ظہور کا آخری زمانہ میں وعدہ دیا گیا تھا وہ خدا کے فضل سے میں ہی ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کرے گا اور دنیا میں اسلام کا سورج پھر اسی آب و تاب کے ساتھ چمکے گا جیسا کہ وہ اپنے ابتدائی دور میں چمک چکا ہے۔آپ نے اس دعویٰ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ دراصل اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دو بعثتیں مقرر کر رکھی تھیں۔ایک بعثت اسلام کے دور اول کے ساتھ مخصوص تھی جو جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی اور محمدیت کی شان کی مظہر تھی۔اور دوسری بعثت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالی نام احمد کے ساتھ وابستہ تھی آخری زمانہ میں حضور سرور کائنات کے ایک خادم اور نائب کے ذریعہ مقدر تھی۔یہی وہ بعثت ہے جس کی طرف قرآنِ مجید کی سورۃ جمعہ میں آیت أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔” یعنی آخری زمانہ میں ایک جماعت ظاہر ہوگی جس کی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک بروز اور نائب کے ذریعہ تربیت فرمائیں گے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب کے نام مرزا غلام احمد - ولادت فروری ۱۸۳۵ء۔وفات مئی ۱۹۰۸ء