سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 207 of 315

سیرت طیبہ — Page 207

۲۰۷ اس فی البدیہ اعجازی تقریر کے متعلق حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں "سبحان اللہ اُس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔۔۔۔۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۷۶) (10) مجھے اس وقت خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرت کا ایک اور واقعہ بھی یاد آیا ہے جو ہے تو بظاہر بہت چھوٹا سا مگر اس میں خدائی تائید و نصرت کا عجیب وغریب جلوہ نظر آتا ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں کسی شوخ مخالف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی حوالہ طلب کیا اور بحث میں حضور کو بزعم خود شرمندہ کرنے کی غرض سے اسی وقت دم نقد اس حوالہ کے پیش کئے جانے کا مطالبہ کیا۔وہ حوالہ تو بالکل درست اور صحیح تھا مگر اتفاق سے اس وقت یہ حوالہ حضرت مسیح موعود کو یاد نہیں تھا اور نہ اس وقت آپ کے حاضر الوقت خادموں میں سے کسی کو یاد تھا۔لہذا وقتی طور پر شمات کا اندیشہ پیدا ہوا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے وقار کے ساتھ صحیح بخاری کا ایک